میں نہیں مانتا،حبیب جالب

دیپ جس کا محلات ہی میں جلے
چند لوگوں کی خوشیوں کو لے کر چلے
وہ جو سائے میں ہر مصلحت کے پلے
ایسے دستور کو، صبح بےنور کو
میں نہیں مانتا، میں نہیں مانتا

میں بھی خائف نہیں تختہ دار سے
میں بھی منصور ہوں کہہ دو اغیار سے
کیوں ڈراتے ہو زنداں کی دیوار سے
ظلم کی بات کو، جہل کی رات کو
میں نہیں مانتا، میں نہیں مانتا

پھول شاخوں پہ کھلنے لگے،تم کہو
جام رندوں کو ملنے لگے،تم کہو
چاک سینوں کے سلنے لگے ،تم کہو
اِس کھلے جھوٹ کو، ذہن کی لوٹ کو
میں نہیں مانتا، میں نہیں مانتا

تم نے لوٹا ہے صدیوں ہمارا سکوں
اب نہ ہم پر چلے گا تمھارا فسوں
چارہ گر میں تمہیں کس طرح سے کہوں
تم نہیں چارہ گر، کوئی مانے، مگر
میں نہیں مانتا، میں نہیں مانتا

Advertisements

اے عشق ہماری گلیوں میں

یوں  دل  نہ  لگے  نہ  درد  اٹھے
مت  روز  ملو  تو   اچھا   ہے
نہ  پیار  بڑھے  نہ  جھگڑا  ہو
تم   دور   بسو   تو   اچھا    ہے

کسی پھول سے ملتے چہرے کو
مری   دنیا   دیکھنا   چاہے   گی
گر  پاس  تمہارے  کچھ  بھی  نہیں
پردے  میں   رہو  تو   اچھا   ہے

لے  کر   زنجیریں   ہاتھوں   میں
کچھ   لوگ  تمہاری  تاک  میں  ہیں
اے  عشق   ہماری   گلیوں   میں
نہ   اور   پھرو   تو   اچھا    ہے

https://pakistanistoday.wordpress.com/wp-admin/

یا رب! دل مسلم کو وہ زندہ تمنا دے

یا رب! دل مسلم کو وہ زندہ تمنا دے
جو قلب کو گرما دے ، جو روح کو تڑپا دے

پھر وادی فاراں کے ہر ذرے کو چمکا دے
پھر شوق تماشا دے، پھر ذوق تقاضا دے

محروم تماشا کو پھر دیدئہ بینا دے
دیکھا ہے جو کچھ میں نے اوروں کو بھی دکھلا دے

بھٹکے ہوئے آہو کو پھر سوئے حرم لے چل
اس شہر کے خوگر کو پھر وسعت صحرا دے

پیدا دل ویراں میں پھر شورش محشر کر
اس محمل خالی کو پھر شاہد لیلا دے

اس دور کی ظلمت میں ہر قلب پریشاں کو
وہ داغ محبت دے جو چاند کو شرما دے

رفعت میں مقاصد کو ہمدوش ثریا کر
خودداری ساحل دے، آزادی دریا دے

بے لوث محبت ہو ، بے باک صداقت ہو
سینوں میں اجالا کر، دل صورت مینا دے

احساس عنایت کر آثار مصیبت کا
امروز کی شورش میں اندیشۂ فردا دے

میں بلبل نالاں ہوں اک اجڑے گلستاں کا
تاثیر کا سائل ہوں ، محتاج کو داتا دے

اردو شاعری احمد فراز

اب کے ہم بچھڑے تو شايد کبھي خوابوں ميں مليں
جس طرح سوکھے ہوئے پھول کتابوں ميں مليں

ڈھونڈ اجڑے ہوئے لوگوں ميں وفا کے موتي
يہ خزانے تجھے ممکن ہے خرابوں ميں مليں

غم دنيا بھي غم يار ميں شامل کر لو
نشہ بڑتا ہے شرابيں جو شرابوں ميں مليں

تو خدا ہے نہ ميرا عشق فرشتوں جيسا
دونوں انساں ہيں تو کيوں اتنے حجابوں ميں مليں

آج ہم دار پہ کھينچے گئے جن باتوں پر
کيا عجب کل وہ زمانے کو نصابوں ميں مليں

اب نہ وہ ميں ہوں نہ تو ہے نہ وہ ماضي ہے فراز
جيسے دو سائے تمنا کے سرابوں ميں ملیں

 شاعری

آ جا  کہ  ابھی  ضبط  کا  موسم  نہیں  گزرا
آ جا کہ   پہاڑوں  پہ  ابھی  برف  جمی  ہے
خوشبو کے جزیروں  سے ستاروں  کی  حدوں  تک
اس شہر  میں  سب کچھہ ہے  اک  تیری  کمی  یے

پروین شاکر